Gurchani tribe

1۔ گورچانی قبیلہ کی مختصر تاریخ
گورچانی قبیلہ ضلع راجن پور کے چار قبائل میں سے ایک ہے۔ باقی تین دریشک، مزاری اور لنڈ ہیں۔ متحدہ ضلع ڈیرہ غازیخان میں کل 9 قبائل ہوتے تھے (تین متذکرہ بالا کے علاوہ لغاری، کھوسہ، لنڈ، بزدار، قیصرانی اور کھیتران)
ضلع راجن پور میں گورچانی تمن کے افراد تھانہ لعل گڑھ، ہڑند، حاجی پور، داجل، فاضل پور، صدر راجن پور کے علاقوں اور ٹرائبل ایریا میں آباد ہیں۔ تمن بھی ریاست سے ملتا جلتا ایک لفظ ہے جو فارسی لفظ تومان سے نکلا ہے جس کے معنی غالبا” ایک ہزار کے ہیں۔ تمن میں ریاست کی تمام خصوصیات مثلا” علاقہ، آبادی وغیرہ موجود ہوتے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ تمندار کے پاس اقتدار اعلی نہیں ہوتا۔
پہاڑی علاقہ تین بڑے پہاڑوں ماڑی، دراگل اور لکی پر مشتمل ہے جو کہ کوہ سلیمان کے سلسلہ سے ہیں۔ لکی اور دراگل تقریبا” ساڑھے پانچ ہزار فٹ اور ماڑی تقریبا”5 ہزار فٹ بلند ہے۔ لیکن چونکہ ماڑی زیادہ دشوار گزار نہیں ہے اس لئے ماڑی صحت افزا مقام کے طور پر Develop ہو رہا ہے۔ بہت پہلے فورٹ منرو موجودہ مقام پر بننے سے پہلے یہاں بنانے کی تجویز تھی۔

1878ء میں لکھی گئی کتاب دی کنٹری آف بلوچستان (The country of Baluchistan)
کا مصنف (A.W. Hughes) گور چانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ گورچانی 11 بڑے فرقوں اور 81 چھوٹی شاخوں اور 2850 جنگجو آدمیوں پرمشتمل قبیلہ ہے۔ قبیلہ کی سرداری جلبانی خاندان کے پاس ہے۔

قبیلہ کے فرقوں اور ان کی تفصیل:
1۔ جلبانی (سرداری خاندان)، 2۔ شکلانی (ہیڈ مقدم خاندان)، 3۔ شہکانی، 4۔ ہوتوانی، 5۔خلیلانی، 6۔ الکانی
(یہ 6 پاڑے گورش کی اولاد میں شمار ہوتے ہیں۔ دیگر فرقوں کے جد امجد بخوشی گورش کے جھنڈے تلے جمع ہوئے تھے)
7۔ درکانی، 8۔ لاشاری، 9۔ پیتافی، 10۔ سوہریانی، 11۔ حلوانی، 12۔ جوگیانی، 13۔ جسکانی، 14۔ بازگیر، 15۔ چانگ

درکانی دراگل اور لکی میں اور لاشاری ماڑی کے پہاڑوں میں آباد ہیں۔ باقی سب فرقے میدانی علاقوں میں رہائش پذیر ہیں۔

درکانی اور لاشاری بڑے فرقے ہیں اور انکی مزید چودہ ہندرہ شاخیں ہیں۔
درکانی: 1۔ نوہکانی (ہیڈ مقدم)، 2۔ الکانی، 3۔ سلیمانی، 4۔ گندا گوالغ، 5۔ ٹھالوانی، 6۔ زہریانی، 7۔ زویرانی، 8۔ زوازانی، 9۔ جھنڈانی، 10۔ میلوہڑ، 11۔ صغروانی، 12۔ سیاہ پھاز، 13۔ کہیری، 14۔ ایری)
لاشاری: 1۔ جیانی، 2۔ جلالانی (ہیڈ مقدم)، 3۔ بڈلانی، 4۔ جمبرانی، 5۔ بنگلانی، 6۔ فوجلانی، 7۔ گورکھانی، 8۔ شلوانی، 9۔ حقدادانی، 10۔ گشکوری، 11۔ موردانی، 12۔ نہالانی، 13۔ سندلانی، 14۔ گہرامانی، 15۔ تھرکلانی، 16۔ گبول)

گورچانی قوم کا جد امجد گورش، جس کے نام سے کہ قوم گورشانی یا گورچانی مشہور ہے، دوده کا بیٹا، رند بلوچوں کے سردار میر شاہک کا نواسہ اور میر چاکر کا بھانجا تھا ۔

“گل بہار، بلوچ قبائل” کے مصنف رائے ہتو رام کی تحریر کے خلاصے کے مطابق میر دودہ کا جد امجد نیرون کوٹ یا نارائن کوٹ (موجودہ حیدرآباد، سندھ) کا حکمران تھا۔ دودہ کا بھائی اس کے خلاف بغض رکھتا تھا۔ وہ شاہ خراسان کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے بھائی دودہ کے خلاف مدد کا طالب ہوا۔ جب شاہ خراسان کے لشکر جرار کی آمد کی خبر ہوئی تو دودہ مقابلے کی سکت نہ پا کر اپنے اہل و عیال اور 2 ہزار خانوادوں کے ساتھ جلاوطن ہو کر کیچ مکران کی طرف کوچ کر گیا۔ رند قبائل کے سردار میر شاہک خان اس پر بہت مہربان ہوا اور اسے نہ صرف اپنے علاقے میں پناہ دی بلکہ اپنی صاحبزادی بی بی مازہ کی شادی بھی اس سے کر دی۔ ان کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی جسکا نام گورش (بمعنی بارش کی ہوا) رکھا گیا۔ یہ قوم ابھی تک مزرانی دودائی بلوچ کے نام سے مشہور ہے۔
دودہ کی وفات کے بعد 18 سال کی عمر میں گورش خان کی دستار بندی کی گئی ۔ دو تین سال بعد گورش کے نانا میر شاہک خان رند بھی فوت ہو گئے اور اسکے ماموں چاکر اعظم نے رند بلوچوں کے سردار کی دستار باندھی۔
جب شہنشاہ ہمایوں جلاوطنی کے بعد شاہ ایران سے مدد لے کر واپس ہندوستان کی طرف بڑھا تو رند بلوچوں کا لشکر بھی میر چاکر کی سربراہی میں شاہی لشکر کی مدد کیلئے ساتھ روانہ ہوا جس میں سے ایک دستے کی کمان گورش کے پاس تھی۔ شاہی لشکر کے ایک حصہ نے جلال آباد، پشاور کا راستہ اختیار کیا جبکہ دوسرا حصہ، جس میں بلوچی لشکر بھی شامل تھا، بادشاہ کے ہمراہ سبی، ڈھاڈر (درہ بولان) سے ہوتا ہوا آگے بڑھا۔ جب یہ لشکر ہڑند اور آس پاس کے پہاڑی علاقوں سے گذرا تو گورش اور اسکے ہمراہیوں نے یہ سر سبز علاقہ پسند کیا جو کہ دریائے کاہا سے آباد ہوتا تھا ۔
دہلی کی فتح کے بعد بلوچی لشکر چند روز وہاں رہ کر فتح کے جشن میں شامل رہا۔ واپسی پر گورش اپنے لشکریوں کے ساتھ میر چاکر سے علیحدہ ہو کر ہڑند کے آس پاس کے پہاڑی علاقوں شم، پھیلاوغ اور کوہ ماڑی سے مالدار افغانوں کو نکال کر یہاں آباد ہو گیا۔
گورش کے لشکریوں میں چند اقوام لاشاری، درکانی، سوہریانی، پتافی، چانگ، جوگیانی، حلوانی، بازگیر اور جسکانی وغیرہ نے اپنے قبائل سے علیحدہ ہو کر گورش کے ساتھ بودوباش اختیار کی اور اس طرح سے یہ گورشانی قبیلہ مشہور ہوا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لفظ گورشانی بگڑ کر گورچانی بن گیا۔ قبیلہ کی گذر بسر پہاڑوں سے متصل زمینوں پر تھی جہاں زراعت کے ساتھ ساتھ مالداری بھی اچھی ہوتی تھی۔ اس وقت ہڑند میں ناہڑ خاندان شہنشاہ دہلی کی طرف سے اجارہ دار تھا ۔
گورش کے چار بیٹے شاہک، ہوتو، عالی اورخلیل تھے ۔ گورش کی وفات کے بعد بڑے بیٹے شاہک خان کی دستار بندی ہوئی۔ اس وقت مری قبائل سے تعلقات اچھے تھے اور دوست علی خان تمندار مری نے اپنی بیٹی کا رشتہ شاہک خان تمندار کے بیٹے (میر گرازو) کو دیا۔ دیگر جنگجو قبائل کی طرح گورچانی قبیلہ کے چند لوگ بھی زراعت اور مالداری کے ساتھ ساتھ علاقہ ہڑند میں لوٹ مار بھی کرتے رہتے تھے۔
شاہک خان کے بعد گرازو خان تمندار ہوا اور قبیلے کی ہڑند کے علاقے کو تاخت و تاراج کرنے کی روش بدستور قائم رہی جس سے ہڑند کا ناہڑ حاکم بہت تنگ تھا۔ گرازو خان کی وفات کے بعد اسکا بیٹا جلب خان (اول) سردار بنا۔ ان دنوں ایک نیک بخت فقیر سلطان طیب کا شہرہ تھا۔ جلب خان انہی کا مرید ہوا۔ ناظم ہڑند کے تعلقات گورچانی قبیلہ کے ساتھ از حد کشیدہ ہوئے تو اس نے سلطان طیب صاحب کے توسط سے صلح کے وعدہ وعید کے ساتھ جلب خان کو اپنے پاس بلوایا ۔ جلب خان مطمئن ہو کر اپنے دو تین ساتھیوں کے ہمراہ قلعہ میں داخل ہوا تو قلعہ دار نے بد عہدی کر کے انہیں قتل کرا دیا جس سے قبیلے میں انتقام کی آگ بھڑک اٹھی۔ جلب خان کے بیٹے شادی خان اور لشکر خان کمسن تھے چنانچہ دستار اسکے بھائی سائینداد خان کو باندھی گئی۔ وہ بھائی کے قتل کا بدلہ لینے کیلئے تمندار مری سے مدد کا طالب ہوا۔ (جلب خان مقتول دوست علی تمندار کا نواسہ تھا) ۔ تمندار مری اپنے لشکر کے ساتھ خود مدد کوروانہ ہوا اور گورچانی اور مری لشکر نے ہڑند پر یلغار کی۔ ناظم ہڑند نے قلعہ سے باہر نکل کر مقابلہ کیا لیکن شکست کھائی اور قریب ڈیڑھ سو ساتھیوں سمیت مارا گیا۔ اسکے بعد اس کا بیٹا ناظم بنا جس نے کچھ عرصہ بعد گورچانی قبیلہ سے صلح کر لی اور قلعہ ہڑند کے ساتھ قطعہ زمین بقدر 20 خروار غلہ تمندار گورچانی کو خون بہا کے طور پر دیا۔ (یہ انتظام عہد نصیر خانی تک برقرار رہا لیکن رنجیت سنگھ والئی لاہور کے زمانے میں ضبط کر لیا گیا) ۔ تب سے گورچانی قبائل اکثر پہاڑوں سے نیچے آ کر آباد ہوئے جبکہ کچھ بدستور پہاڑوں میں رہے۔
سائینداد خان کی وفات کے بعد جلب خان کا بڑا بیٹا شادی خان تمندار بنا لیکن تھوڑے عرصے بعد ہی بعارضہ بدنی فوت ہوا ۔

شادی خان کے بعد اسکا بڑا بیٹا کھکھل خان تمندار ہوا اور اسکا زمانہ بھی اچھے انداز میں گذرا۔ کھکھل خان کی وفات کے بعد آسکا بڑا بیٹا لعل خان تمندار ہوا (شجرہ کے مطابق کھکھل خان کا بیٹا شادی خان تھا اور اسکے بیٹے لعل خان اور جلب خان تھے)۔ اس زمانے میں ڈیرہ غازیخان کا علاقہ بادشاہ خراسان احمد شاہ کی عملداری میں شامل تھا۔ لعل خان کو حکومت کی طرف سے سرحد ہڑند کی حفاظت کے عوض مواضعات میراں پور، بمبلی، کلہوٹ پور، علی پور اور بکھر پور میں جاگیر بصورت نصف محصول برائے گذر اوقات تمندار عطا ہوئی۔ تب سے تمندار لعل خان نے پہاڑوں کی بجائے میدانی علاقہ میں اپنا مسکن بنایا جسکا نام لعل گڑھ پڑا ۔ 1757 میں جب احمد شاہ بادشاہ ہندوستان پر حملہ آور ہوا تو لعل خان تمندار بھی اپنے جنگجوؤں کے ساتھ میر نصیر خان بروہی کے لشکر میں شامل ہو کر ہمراہ ہوا۔ فتحیابی کے بعد احمد شاہ نے علاقہ داجل اور ہڑند میر نصیر خان کو عطا کیا۔ لعل خان کو لعل گڑھ میں تعمیر قلعہ کیلئے 7 ہزار روپے معرفت دوست محمد خان ناظم ڈیرہ غازیخان عطا ہوئے اور سابقہ مراعات بحال ہوئیں۔
جب لعل خان فوت ہوا تو اسکا بیٹا صرف 4 سال کا تھا چنانچہ اسکے بھائی جلب خان (دوم) نے سرداری سنبھالی۔ اس کے دور میں مزاریوں کے ساتھ ایک بڑی جنگ ہوئی جس میں تمندار کا بیٹا تھارہ خان برادری کے دیگر افراد کے ساتھ مارا گیا۔ جب یہ تمندار فوت ہوا تو اسکا بڑا بیٹا فتح خان سردار بنا۔ اسکے عہد میں بھی کئی مرتبہ تمن مزاری اور گورچانی میں خونریز جنگیں ہوئیں۔ تمن لغاری کے ساتھ اس وقت دوستانہ تعلقات تھے۔
فتح خان کی وفات کے بعد اسکے دو کمسن بیٹوں کی بجائے اسکے بھائی غلام محمد خان کو دستار باندھی گئی۔ مزاری گورچانی کشت و خون بدستور جاری رہا۔ تمندار لنڈ گورچانی تمن سے مخاصمت کے سبب اپنے قبیلہ کے ہمراہ درہ کاہا کے اوپر پہاڑ میں سکونت رکھتا تھا۔ انہی دنوں بہرام خان تمندار مزاری مسو خان تمندار لنڈ کی مدد سے تمن گورچانی پر حملہ آور ہوا اور 40 نفر گورچانی مع غلام محمد خان کے پوتے مسو خان، بھائی غلام حیدر خان، اور رشتہ دار عالم خان و براہم خان مارے گئے۔ مسو خان تمندار لنڈ اسکے بعد خوف سے روجہان مزاری میں پناہ گزین ہوا۔ سردار غلام محمد خان نے بدلہ لینے کیلئے روجہان پر لشکر کشی کی اور مزاری اور لنڈ جنگجوؤں کو شکست دے کر انکے 60 افراد قتل کر دئے جس میں سردار بہرام خان مزاری کا چچا بدھو خان بھی شامل تھا ۔
اسکے بعد تمن مری کے ساتھ حالات بہت کشیدہ ہوئے اور اندازا” 1835 بمطابق 1240 ہجری میں تمندار مری ایک بڑے لشکر کے ساتھ لعل گڑھ پر حملہ آور ہوا۔ تمندار گورچانی بے خبر تھا۔ قبیلہ کے لوگ بھی دور دور اپنے کاموں میں مصروف تھے۔ قلعہ کی دیوار بھی شکستہ تھی۔ تمندار کے دو بیٹے جلب خان اور چھٹہ خان زیارت سخی سرور کو گئے ہوئے تھے۔ مری لشکر نے قلعہ کے اندر داخل ہو کر غلام محمد خان تمندار اور اسکے بیٹوں لعل خان اور کھکھل خان سمیت 40 افراد کو قتل کر ڈالا اور مال اسباب لوٹ کر واپس چلے گئے۔

اس حادثہ کے بعد غلام محمد خان کا بچ جانے والا بیٹا جلب خان (سوم) تمندار بنا جس نے انتقام کی آگ بجھانے کیلئے اپنا لشکر تیار کیا اور تمن لغاری کے ڈیڑھ سو سواروں کی مدد سے تمن مری پر حملہ آور ہو کر مری قبیلہ کے متعدد افراد کو قتل کر دیا جن میں ملک شاہ مقدم بھی شامل تھا۔ فاتح لشکر مال مویشی لوٹ کر واپس آ رہا تھا کہ مریوں نے تعاقب کر کے پیچھے سے آ کر حملہ کر دیا اور متعدد لوگوں کو بے خبری میں قتل کر کے مال مویشی چھڑا کر لے گئے۔

جلب خان (سوم) صرف ڈیڑھ سال سردار رہ کر فوت ہوا۔ اسکے تین بیٹوں میں سے مسو خان قبل ازیں مزاریوں کے حملے میں مارا جا چکا تھا۔ بجر خان اور غلام حیدر خان ابھی چھوٹے تھے لہذا جلب خان کا چھوٹا بھائی چھٹہ خان تمندار بنا جو کہ جمال خان تمندار لغاری کے چچا جلال خان لغاری کا داماد تھا ۔ اس زمانے میں علاقہ ڈیرہ غازیخان کا انتظام و اختیار مہاراجہ رنجیت سنگھ کی طرف سے نواب بہاولپور کے پاس آ گیا۔ چھٹہ خان کے زمانے میں حالات تمن ٹھیک رہے۔ رنجیت سنگھ کی طرف سے جنرل ونتورہ 9 برس ناظم ڈیرہ غازیخان رہا اور اسکے بعد جب دیوان ساون مل صوبیدار ملتان مقرر ہوا تو اس نے بھی گذشتہ معمولات برقرار رکھے۔ قلعہ ہڑند کی تعمیر نو بھی شروع ہوئی۔
انہی دنوں قبیلہ کی شاخ شہکانی سے جرم چوری سر زد ہوا۔ کاردار قلعہ ہڑند نے ملزم کی گرفتاری کیلئے چند سوار علاقہ پچادھ گورچانی بھیجے اور دوران گرفتاری مزاحمت پر ملزم اور اسکی والدہ مارے گئے۔ تمن گورچانی اور لنڈ کے لوگ ویسے بھی کاردار ہڑند کی چیرہ دستیوں سے تنگ تھے۔ قلعہ ہڑند کی تعمیر کو بھی پسند نہیں کیا جا رہا تھا اور ابھی طاق دروازے بھی مرمت نہیں ہوئے تھے۔دونوں تمنات نے مشتعل ہو کر قلعہ ہڑند پر حملہ کر دیا اور ہرسہ سنگھ کاردار قلعہ کو سپاہیوں سمیت قتل کر کے مال اسباب لوٹ لیا۔ دیوان ساون مل کو خبر ہوئی تو شورش پر قابو پانے کیلئے فوج لیکر پہنچا۔ قبائل نے اندر پہاڑ پناہ لی لیکن دیوان نے تعاقب کر کے تمن گورچانی اور لنڈ کے چالیس پچاس نفر قتل کئے اور مال و اسباب تباہ کیا۔ اسکے بعد قلعہ ہڑند میں زیادہ فوج تعینات کر کے واپس ملتان گیا۔ قبائل جب زرخیز میدانی علاقوں کو بخوف چھوڑ کر واپس پہاڑوں میں گئے تو گذر بسر میں بہت تنگی آ گئی چنانچہ چھٹہ خان تمندار اولا” نواب بہاولپور کی خدمت میں پیش ہوا اور اسکے توسط سے دیوان ساون مل کے پاس حاضر ہوا۔ دیوان نے مبلغ 5 ہزار جرمانہ عائد کر کے اقوام گورچانی کو علاقہ میدان میں گذر بسر کی اجازت دی اور حالات تمن پھر سے آسودہ ہو گئے۔

سردار چھٹہ خان کی اولاد نہیں تھی ۔ اسکے کمسن بھتیجے بجر خان اور غلام حیدر خان اب بڑے ہو چکے تھے۔ سرداری کا حقدار بجر خان تھا لیکن چچا کے تیور بدلے ہوئے دیکھے تو وہ باغی ہو کر اندر پہاڑ سکونت پذیر ہوا۔ اس دوران وہ چھٹہ خان کو قتل کرنے کا موقع تلاش کرتا رہا اور ایک روز جب چھٹہ خان مع پانچ نفر موضع لنڈی سیدان میں شب باش تھا تو بجر خان نے 15 سواروں کے ہمراہ شب خون مارا اور چھٹہ خان کو قتل کر کے واپس اندر پہاڑ چلا گیا۔ قبیلہ کے لوگوں نے، جو بجر خان کے حمایتی تھے، جمع ہو کر دستار بجر خان کو باندھی اور اس نے اندر پہاڑ رہ کر سکھ حکومت کو پریشان کرنا شروع کر دیا۔
ایک مرتبہ تقریبا” ایک ہزار جنگجوؤں کے ساتھ موضع نوشہرہ نزد داجل، دوسری مرتبہ کوٹلہ مغلاں اور تیسری مرتبہ دریائے سندھ کے قریب لنڈی پتافی پر دھاوا بولا اور قتل و غارت کر کے مال اسباب لوٹ لیا۔ اس طرح پورے ضلع میں بجر کی بھگی (غدر) مشہور ہوئی۔ دیوان ساون مل کو خبر ہوئی تو اس نے قلعہ دار ہڑند کو ہر صورت بجر خان کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ قلعہ دار کو معلوم تھا کہ بجر خان کو گرفتار کرنا آسان نہیں لہذا اس نے مکاری سے بجر خان کو عام معافی دلوانے کا جھانسہ دے کر اپنے پاس بلوا لیا۔ جب بجر خان قلعہ کے اندر پہنچا تو تسلی تشفی کی باتیں کرتے اچانک اسے گرفتار کر لیا اور صوبیدار ملتان کے حکم کے مطابق کڑے پہرے میں ملتان روانہ کیا۔ قبیلے والوں کو پتہ چل گیا کہ سرکاری قافلہ رات کو کہاں پڑاو ڈالے گا چنانچہ انہوں نے رات کو اچانک حملہ کر کے بجر خان کو چھڑا لیا۔ دیوان ساون مل بہت سیخ پا ہوا اور کاردار ہڑند کو برطرف کر کے دین محمد افغانی کو تین سو سوار و پیادوں کے ساتھ قلعہ ہڑند پر تعینات کیا۔
اس دوران بجر خان نے پھر موضع جام دیوان پرگنہ خاص ڈیرہ غازیخان پر چڑھائی کی اور قتل و غارت کے بعد مال اسباب لوٹ کر واپس جا رہا تھا کہ فوج کے افسر میر علی خان نے تعاقب کیا اور چوٹی زیریں سے تمندار لغاری بھی ہمراہ ہوا کیونکہ وہ چھٹہ خان کے قتل پر رنجیدہ تھا جو کہ جلال خان لغاری کا داماد تھا۔ مقابلے کے بعد سرکاری فوج نے شکست کھائی اور 20 نفر مروا کر اپنے حمایتیوں کے ساتھ راہ فرار اختیار کی۔ بجر خان کی یلغاروں سے پورے ضلع میں خوف کی فضا پیدا ہو گئی اور کاروبار و زراعت کو بہت نقصان پہنچا۔ جب دیوان ساون مل نے بجر خان کی گرفتاری کی کوئی صورت نہ دیکھی تو مجبورا” بجر خان کے ساتھ معاملہ طے کیا اور اسکی تمنداری بحال کر دی۔ تمندار مذکور پہاڑوں سے اتر کر واپس لعل گڑھ میں سکونت پذیر ہوا۔ دو تین ماہ بعد جب بجر خان سکھوں کی طرف سے بالکل مطمئن ہو چکا تھا، ایک دن قلعہ دار ہڑند نے اسکو کسی بہانے بلوا کر گرفتار کر لیا اور اس مرتبہ دو سو سوار اور پیادوں کے سخت پہرے میں ملتان روانہ کیا جہاں صوبیدار ملتان کے حکم سے جمال خان تمندار لغاری کے بھائی نور احمد خان نے اسے سردار چھٹہ خان گورچانی کے قصاص میں قتل کر دیا۔
بجر خان کے قتل پر قبیلے والوں نے اسکے بھائی غلام حیدر خان (اول) کو دستار باندھی اور اندر پہاڑ کوچ کر گئے جہاں سے انہوں نے باغیانہ کاروائیوں کو جاری رکھا۔ اس دوران 1848 میں دیوان مولراج نے بغاوت کی تو مہاراجہ والئی لاہور کی طرف سے ملتان پر لشکر کشی ہوئی۔ لیفٹیننٹ ایڈورڈز ڈیرہ غازیخان پہنچا تو اسے تمندار گورچانی کی سکھوں سے دشمنی کا پتہ چلا چنانچہ اس نے سردار غلام حیدر خان گورچانی کو مدد کیلئے طلب کیا۔ تمندار مذکور 200 سواروں کے ساتھ حاضر آیا اور ڈیرہ غازیخان کی فتح میں مدد کی۔ اسکے چند روز بعد لیفٹننٹ ینگ (رالف ینگ)، جو کہ اب کرنیل ینگ صاحب بہادر انسپکٹر جنرل مشہور ہیں، نے غلام حیدر خان تمندار کی مدد سے محکم چند قلعہ دار ہڑند کو شکست دی۔ اسکے بعد ملتان کی فتح میں بھی تمندار مذکور کی مدد شامل رہی۔ ان فتوحات کے بعد میجر ایڈورڈز صاحب نے سردار غلام حیدر خان کو سواران بلوچی کا جمعدار بنایا اور دس سوار بطور بازگیر اسکی ملیشیا کے دئے اور ایک خلعت اور ایک ہزار نقد بھی عنایت کئے۔
انکے بعد جنرل وان کورٹ لینڈ ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازیخان مقرر ہوئے۔ انکے دور میں بھی تمندار مذکور کو مواضعات کے کل محصول کا تیسرا حصہ بطور جاگیر ملتا رہا اور نقد رقم بھی جو مولراج کے زمانے سے ملتی تھی، قائم رہی۔ انگریزی عملداری میں زیادہ تر بلوچ قبائل پرامن طور پر رہنے لگے لیکن قوم گورچانی، خاص طور پر پتافی اور لاشاری بدستور بدمعاشی اور رہزنی کرتے رہے۔ لاشاری جو زیادہ تر کوہ ماڑی پر سکونت پذیر تھے، کبھی کبھار میدانی علاقوں میں بھی اپنے عزیزوں اور رازداروں کی مدد سے وارداتیں کرتے رہتے تھے جس سے انگریزی سرکار کو پریشانی ہوتی تھی۔ 1856 میں ان لوگوں نے بہت وارداتیں کیں اور مری لشکر کے جاسوس لائے جسکے نتیجے میں ہونے والے حملے میں بجر خان تمندار دریشک سرکار کی حمایت میں لڑتے ہوئے مارا گیا۔ اسکے بعد یہ سب نقل مکانی کر کے تمن مری میں سکونت پذیر ہوئے اور انکے ساتھ مل کر وارداتیں کرنے لگے۔
1860 میں میجر پولاک صاحب ڈپٹی کمشنر نے انہیں پہاڑوں سے بلوا کر مواضعات متصل گولہ واہ، مکول واہ انکو عطا کئے لیکن مقدمین تو خوشحال ہوئے مگر نیچے اپنے لوگوں کو کچھ زیادہ فائدہ نہیں دیتے تھے جس سے امن وامان میں خاطر خواہ بہتری نہ آ سکی۔ 1866 میں کیپٹن منچن صاحب ڈپٹی کمشنر اپنی رپورٹ میں تحریر کر چکے ہیں کہ تمام اقوام میں سے قوم لاشاری سب سے زیادہ بدمعاش ہے اور یہ بگٹی، مری اور کھیتران کے ساتھ لڑائیاں کر کے میدانی علاقہ میں بھاگ آتے ہیں اور راجن پور، فاضلپور کے علاقہ میں وارداتیں زیادہ تر انکی یا قوم پتافی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ جب ان پر دباؤ پڑتا ہے تو اندر پہاڑ تمن مری میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ تاہم اب کافی فرق پڑ گیا ہے اور پچھلے تین سال سے کوئی واردات رہزنی نہیں ہوئی۔ وجہ یہ ہے کہ 1867 میں اقوام لاشاری کو پہاڑ سے نکال کر میدان میں آباد کیا گیا اور راجو واہ کے ساتھ کی زمینات بیس سال کی میعاد پر قوم لاشاری کی تمام شاخوں میں حسب تعداد تقسیم کی گئیں اور زر تقاوی بھی دیا گیا۔ اسی طرح اقوام درکانی کو بھی پہاڑ سے میدانی زمینات متصل گرکنہ اور وزیری واہ میں آباد کیا گیا۔ انکے ساتھ قوم پتافی کیلئے بھی حصہ تجویز ہوا۔
اس وقت حالات یہ تھے کہ نور واہ کے مواضعات میراں پور، بکھر پور، بمبلی، لعل گڑھ سکھوں کے زمانے سے بدستور ضبط چلے آ رہے تھے جسکی وجہ سے غلام حیدر خان تمندار بہت مفلس ہو گیا تھا اور مہمانداری اور دیگر اخراجات تمن کیلئے تنگ رہتا تھا۔ اسی وجہ سے اسکا قوم پر کنٹرول بھی متاثر ہو رہا تھا۔ مقدمان خود تمنداری کے خواب دیکھنے لگے یا جمال خان تمندار لغاری کے آگے پیچھے ہونے لگے۔ انہی دنوں نومبر 1867 میں جب غلام حسین مسوری بگٹی ہڑند پر حملہ آور ہوا تو تمن گورچانی اور لنڈ نے مقابلہ کر کے اسے شکست فاش دی جس سے حکومت کا اعتماد غلام حیدر خان تمندار پر بڑھا اور تمام جاگیر ہائے جو ضبط تھیں، واگزار ہوئیں۔ اب تمندار مذکور کا موثر کنٹرول ہے اور مقدمان بھی اطاعت کرنے لگے ہیں۔ تمندار کا بڑا بیٹا جلب خان (چہارم) 60 روپے ماہانہ پر تھانیدار ہڑند تعینات ہے۔ غلام حیدر خان تمندار کو بھی ماتحت مجسٹریٹ درجہ دوم کے اختیارات عطا ہوئے ہیں جنکی رو سے وہ اپنے تمن کے مقدمات کے فیصلے کرتا ہے ۔
کپتان سنڈیمن صاحب نے کوہ ماڑی پر، جو کہ کوہ غوند (ڈیرہ اسماعیل خان) کی طرح سرد مقام ہے، بنگلہ بنوانے کی تجویز دی ہوئی ہے اور تعمیر بنگلہ و سڑک کوہ ماڑی میں تمندار صاحب کی طرف سے اچھی امداد پہنچی ہے۔ یہ دوسرا سال ہے کہ وہ گرمیوں میں یہاں آرام کرتے ہیں جس سے گرمی سے بچاو کے ساتھ ساتھ نگرانی سرحد بھی ہوتی رہتی ہے۔
مارچ 1871 میں نوشہرہ کے سکونتی دو ہندو حاجی پور سے فاضلپور جا رہے تھے کہ راستے میں قوم لاشاری کے تین رہزن انکو لوٹ کر فرار ہو گئے۔ سرکار نے تمندار گورچانی سے ملزمان کی گرفتاری کا تقاضا کیا۔ تمندار مذکور نے ایک مجرم بخشہ لاشاری معہ مال مسروقہ کوہ ماڑی سے گرفتار کیا۔ باقی دو علی بخش اور ہیبتان تمن بگٹی میں روپوش ہوئے جنہیں مرتضا خان تمندار بگٹی کے بیٹے شہباز خان نے گرفتار کر کے پیش کیا۔ ان سب کو ڈپٹی کمشنر صاحب کی طرف سے چھ چھ سال قید سخت اور جرمانہ کی سزا بمقام کوہ ماڑی سنائی گئی۔
(یہ تحریر یقینا” 1871 کے بعد لکھی گئی ہے)

غلام حیدر خان اول کی وفات کے بعد سردار جلب خان چہارم سردار بنے۔ انہیں 1912 میں دہلی دربار میں “نواب” کا خطاب ملا اور ہڑند کے میدانی علاقہ کے بعض مواضعات جاگیر کے طور پر ملے۔ نواب جلب خان 1915ء میں فوت ہوئے تو ان کی جگہ ان کے بڑے بیٹے لشکر خان سردار بنے لیکن وہ بھی 2 سال بعد 1917 میں فوت ہو گئے تو انکے چھوٹے بھائی سردار محمد حسن خان، جو کہ اس وقت پولیس انسپکٹر تھے، سے ملازمت چھڑوا کر انہیں اپنے کمسن بھتیجے سردار غلام
حیدر خان کی جگہ سربراہ تمندار بنایا گیا۔ وہ قابلیت، ذہانت، بلوچی غیرت اور شان میں وہ آج بھی بلوچ قوموں میں ایک مثال ہیں۔ بلوچ سرداروں میں جس قدر طاقت، اقتدار اور مرتبہ نواب بہرام خان مزاری کو حاصل ہوا تھا اتنا شاید ہی کسی کو نصیب ہوا ہو لیکن بہرام خان بھی یہ کہتے تھے اے اللہ مجھے اولاد دینا تو حسن خان گورچانی جیسی، ورنہ میں لا ولد ہی ٹھیک ہوں۔ نواب بہرام خان وائسرائے کونسل کے ممبر بھی تھے۔ ایک دفعہ انہوں نے وائسرائے سے کہا “یہ گاندھی آپ کو پریشان کئے رکھتا ہے۔ آپ کہیں تو دو مزاری بھیج کر اسے ہمیشہ کے لئے ختم کرا دوں”
جس پر وائسرائے نے کہا “نواب صاحب! یہ غضب نہیں کرنا، یہ زندہ ہمارے لئے اتنا خطرناک نہیں جتنا مر کر ہو جائے گا۔” گورچانی تمن کے پہاڑوں کے مغربی طرف بلوچستان کی حدود میں جو قبیلہ آباد ہے وہ بگٹی ہے۔ اگر چہ گورچانی اور بگٹی کی مختلف شاخوں میں کبھی کبھار قتل و غارت کے واقعات ہو جاتے تھے اور اب بھی ہو جاتے ہیں لیکن دونوں طرف کے قبائلی سردار جرگہ میں بر وقت فیصلے کر لیتے تھے۔ سردار اکبر خان بگٹی کے والد نواب محراب خان بھی سردار محمد حسن خان گورچانی کو اپنا با اعتماد دوست تصور کرتے تھے۔ انگریزوں کے زمانے میں فروری 1937 میں بر صغیر میں پہلی دفعہ عام انتخابات کرائے گئے تو سردار محمد حسن خان پنجاب اسمبلی کی ضلع ڈیرہ غازیخان کی جنوبی نشست سے الیکشن لڑ کر کامیاب ہوئے اور مارچ 1945 میں اپنی وفات تک ایم ایل اے رہے۔ اس حلقے میں جام پور کو چھوڑ کر موجودہ ضلع راجن پور کے تمام علاقے شامل تھے۔ انکے مقابلے میں سردار بہادر خان دریشک اور سردار اعظم جان مزاری تھے۔
سردار غلام حیدر خان جوان ہوئے تو 1931 میں منصب سرداری پر فائز ہوئے۔ سردار غلام حیدر خان ایک شفیق سردار تھے۔ ان کی بڑی خصوصیت ان کی سخاوت تھی۔ اگست 1959ء میں سردار غلام حیدر خان فوت ہوئے تو ان کے اکلوتے بیٹے سردار خواجہ بخش خان قوم کے سردار بنے۔ ان کی وفات نومبر 1990 میں ہوئی۔ ان کے بعد سردار محمد فاروق خان گورچانی قوم کے سردار بنے۔ سردار فاروق خان کے دو اور نام جلب خان (پنجم) اور کابل خان بھی تھے۔ 27 جولائی 1943 کو لعل گڑھ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی اسکول تک کی تعلیم فاضل پور میں اور ڈیرہ غازی خان سے حاصل کی۔ کچھ عرصہ اورینٹل کالج لاہور میں ایم اے اردو کیلئے زیر تعلیم رہے۔ 1970ء میں آزاد مزاری گروپ کی طرف سے نوابزادہ محمد خان لغاری ( فاروق لغاری کے والد) کے مقابلے میں MPA کا الیکشن بھی لڑے لیکن چودہ ہزار ووٹوں کے مقابلے میں بائیس ہزار ووٹوں سے ہار گئے۔ اس کے بعد محکمہ خوراک میں بطور DFC ملازمت اختیار کر لی. فروری 2009 میں انکی وفات ہوئی اور انکی جگہ انکے بڑے بیٹے شاہک حیدر خان سردار بنے۔ سردار فاروق خان کے دو چھوٹے بھائی سجاد حیدر خان سابق ممبر ضلع کونسل اور وقاص نوید خان ایڈووکیٹ ہیں۔ یہ بھی سابق ممبر ضلع کونسل ہیں اور پیپلزپارٹی ضلع راجن پور کے صدر بھی ہیں۔ 2013 میں جام پور کے صوبائی حلقے سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن بھی لڑا لیکن شہباز شریف سے ہار گئے۔ موجودہ چیف سردار شاہک حیدر خان انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور کے گریجویٹ ہیں۔ 2001 میں PP 248 سے حسنین بہادر خان دریشک کے مقابلے میں صوبائی اسمبلی کا الیکشن بھی لڑا لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ 2005 کے بلدیاتی انتخابات کے نتیجے میں تحصیل کونسل جام پور کے نائب ناظم منتخب ہوئے۔ سردار محمد فاروق خان کے چھوٹے بیٹے سردار جنید حیدر خان ایڈووکیٹ راجن پور میں پریکٹس کرتے ہیں۔

نواب جلب خان کا خاندان ان کے دو بیٹوں سردار لشکر خان اور سردار حسن خان سے چلا ہے۔ لشکر خان کی اولاد سردار غلام حیدر خان اور انکے بیٹے سردار خواجہ بخش خان کا گھرانہ ہے جس کا ذکر اوپر ہو چکا ہے جبکہ سردار حسن خان کا خاندان انکے چار بیٹوں، سردار عطا حسین خان، امیر محمد خان، محمد نواز خان اور ظفر اللہ خان کی اولادوں پر مشتمل ہے۔ سردار عطا حسین خان 1921ء میں پیدا ہوئے۔ 1942ء میں انہوں نے ایمرسن کالج ملتان سے گریجویشن کیا اور اپنے علاقہ کے پہلے گریجویٹ کہلائے۔ کچھ عرصہ محکمہ سول سپلائیز میں ملازم رہے اور انبالہ میں تعینات رہے۔ اسکے بعد BMP تمن گورچانی کے جمعدار رہے۔ 1997 میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر حلقہ PP205 سے صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑے لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ انکی وفات دسمبر 2002 میں ہوئی۔ ان کے اکلوتے بیٹے سردار اختر حسن خان 3 اگست 1956 کو لعل گڑھ میں پیدا ہوئے۔ والد کے مستعفی ہونے کے بعد کچھ عرصہ BMP تمن گورچانی کے انچارج بھی رہے۔ 1980ء میں اعلی ملازمتوں کا مقا بلے کا امتحان CSS پاس کیا اور ضلع راجن پور کے پہلے PSP افسر بن کر ڈی آئی جی لاڑکانہ، ریجنل پولیس آفیسر ملتان، کراچی پولیس چیف اور ڈی جی انٹیلیجنس بیورو جیسے عہدوں پر فائز رہے۔ واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے میں بطور منسٹر کمیونٹی افیئرز کے طور پر بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ اگست 2018 میں ملازمت سے ریٹائر ہوئے۔ انکے تین بیٹوں میں سے اطہر حسن خان 2008 میں آزاد امیدوار کے طور پر صوبائی اسمبلی کے حلقہ PP 248 سے حسنین بہادر خان دریشک اور حفیظ الرحمان خان دریشک کو ہرا کر MPA منتخب ہوئے۔ عدیل حسن خان بینک آف پنجاب میں اسسٹنٹ وائس پریذیڈنٹ ہیں جبکہ نعمان حسن خان اپنا زمیندارہ کرتے ہیں۔ سردار امیر محمد خان کے چار بیٹے ہیں محمد حسن خان سابق ممبر ضلع کونسل، طاہرحسن خان، صفدرحسن خان مرحوم اور اظہر حسن خان ہیں۔ سردار محمد نواز خان کے دو بیٹے ہیں ڈاکٹر صداقت علی اور راشد علی خان اور سردار ظفر اللہ خان کے تین بیٹے تھے، شاہد حسن خان مرحوم، امجد حسن خان ایڈوکیٹ مرحوم اور آصف حسن خان مرحوم ۔

Pنواب جلب خان کے چھوٹے بھائی سردار میوہ خان 1910 میں فوت ہوئے۔ انکے بیٹے سردار بجر خان پولیس میں سب انسپکٹر بھی رہے اور بعد میں جب سردار غلام حیدر خان نے تمنداری سنبھال کر جمعدار کا عہدہ چھوڑ دیا تو تمن گورچانی میں دو جمعداروں کی کی پوسٹیں ختم کر کے سردار بجر خان کو جمعدار مقرر کیا گیا جو اپنی وفات 1948 تک اپنے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ سردار بجر خان کے تین بیٹے سردار غلام سرور خان، سردارمحمد ارشد خان عرف لعل بخش خان اور سردار محمد اعظم خان تھے۔ سردار غلام سرور خان کے چار بیٹے محمد رفیق خان مرحوم سابق ممبر ضلع کونسل، شفیق احمد خان مرحوم سابق ممبر ضلع کونسل، جاویداقبال خان مرحوم سابق نائب صدر مسلم لیگ پنجاب اور چیئر مین ضلع کونسل رہے ہیں۔ 1985 اور 1997 میں جام پور سے صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑے لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ سردار پرویز اقبال خان رسالدار بی ایم پی رہے ہیں۔ 2018 میں فاضل پور کے حلقے سے صوبائی اسمبلی کا الیکشن بھی لڑے لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ انکے بیٹے شیر علی خان مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر دو مرتبہ ایم پی اے اور ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی رہے ہیں۔
سردار ارشد خان لاولد تھے۔ سر دار محمد اعظم خان کے تین بیٹے شوکت حیات خان سابق ممبر ضلع کونسل، ضیاء الله خان اور محمد جہانزیب خان ہیں سابق ممبر ضلع کونسل رہے ہیں۔ ضیاءاللہ خان ہفت زبان اوربہت اعلی تخلیقی صلاحیتوں کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ جہانزیب خان اور ضیاءاللہ خان نے شو بز کی دنیا میں بھی کافی شہرت حاصل کی۔
خاندان کی تیسری شاخ سردار نصیر خان کے تین بیٹوں اور انکی اولادوں پرمشتمل ہے۔ یہ سب بمبلی میں رہائش پذیر ہیں نصیر خان کے بڑے بیٹے سردار غلام محمد خان تھے۔ غلام محمد خان کے بیٹے محمد آزاد خان تھے اور آزاد خان کے چار بیٹے ہیں، لیاقت علی خان، اصغرعلی خان مرحوم، محمد اکرم خان اور نزاکت علی خان ایڈووکیٹ۔ سردارنصیر خان کے دوسرے بیٹے سردار محمد مزار خان تھے جنکی اولاد میں سردار امان اللہ خان سابق ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹر ولر، محمد عارف خان اور محمد احسن خان ہیں۔ امان اللہ خان کے بیٹے توصیف امان خان ڈپٹی کلکٹر کسٹمز ہیں۔جبکہ سردارنصیر خان کے تیسرے بیٹے خدا بخش خان کی اولاد دو بیٹے رب نواز خان اور حق نواز خان ہیں۔
جلبانی خاندان کی چوتھی شاخ پلو خان، نہال خان اور بڈھن خان کی اولادوں پرمشتمل ہے۔ پلو خان کی اولاد میں جمال خان، شادی خان ، اللہ ڈیوایا خان، اللہ وسایا خان وغیرہ آتے ہیں۔ اللہ وسایا خان کے ایک بیٹے سردار حیات محمد خان ڈیرہ غازیخان میں وکالت کرتے ہیں۔ نہال خان کی اولادوں میں حاجی حضور بخش خان، رسول بخش خان اور تاج محمد خان (المعروف بدل خان) اور صادق خان شامل ہیں۔ بڈھن خان کے بیٹوں میں سے محمد خان، در محمد خان اور گل محمد خان لعل گڑھ میں رہائش پذیر ہیں جبکہ عبدالواحد خان اور احمد خان بمبلی میں رہتے ہیں۔
گورچانی قبیلہ کی چند شاخیں بلوچستان میں ضلع سبی اور جعفر آباد اور صوبہ سندھ میں ضلع جیکب آباد، نواب شاہ اور میر واہ گورچانی (ضلع میر پور خاص) میں بھی آباد ہیں۔ جیکب آباد کے گورچانیوں میں سے عبدالحکیم خان گورچانی سندھ پولیس کے میں DSP رپے ہیں۔

Advertisement

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s